خبرچار اردو1: بلوچستان -->

{ads}

ٹرینڈنگ

Post Top Ad

Showing posts with label بلوچستان. Show all posts
Showing posts with label بلوچستان. Show all posts

Sunday, June 18, 2023

بلوچستان یوتھ پالیسی نوجوانوں کا حق ہے، پالیسی کا مسودہ جلد از جلد منظور کر لیا جائے گا, نوابزادہ جمال خان رئیسانی نیشنل یوتھ سمٹ میں خطاب

June 18, 2023 0

 


کوئٹہ: محکمہِ کھیل اور امورِ نوجوانان حکومتِ بلوچستان اور  چانن ڈولپمنٹ ایسوسی ایشن (سی ڈی اے) کی جانب سے بلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ نیشنل یوتھ سمٹ کا انعقاد کیا گیاجس میں ملک بھر سے تین سے سو زائد نوجوانوں نے شرکت کی۔ چانن ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن (سی ڈی اے)، جو نوجوانوں کی قیادت میں 2006 میں قائم کی گئی ایک قومی تنظیم ہے، جو نوجواں کی فیصلہ سازی کے مراحل میں شراکت کو یقینی بنانے کے لئے کام کر رہی ہے۔ 

نیشنل یوتھ سمٹ کا عنوان نوجوانوں کی استعداد کو پائیدارمستقبل کے لئے بروئے کار لانا،  ملک کو در پیش مسائل کے ممکنہ حل تلاش کرنا اور تبدیلی کے لئے راہ ہموار کرنا ہے۔ اس سہہ روزہ تقریب کا مقصد نوجوان نسل کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ہے تاکہ وہ خوشحال ، پر امن اور مستحکم پاکستان کے لئے بھر پور کردار ادا کر سکیں۔

 نیشنل یوتھ سمٹ کی افتتاحی تقریب میں وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے ترجمان بابر یوسفزئی، کوآرڈینیٹر برائے نوجوانان نواب زادہ جمال خان رئیسانی، سیکریٹری محکمہِ کھیل ،امورِ نوجوانان إسحاق جمالی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر سی ڈی اے، محمد شہزاد خان اور کنوینئر پارلیمانی ٹاسک فورس برائے ایس ڈی جی رومینہ خورشید عالم نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور نوجوانوں کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ملک کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرنے کی تاکیدکی۔ 

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے کوآرڈینیٹر برائے امورِ نوجوانان نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا کہ، اس سہہ روزہ پروقار تقریب کے انعقاد پر میں اپنے محکمہِ کھیل اور امورِ نوجوانان کے عملہ اور چانن ڈولپمنٹ ایسو سی ایشن کا تہہ دل سے شکرگزار ہوں کہ انہوں نے ملک بھر سے آپ جیسے محترک نوجوانوں کو کوئٹہ جیسے خوبصورت شہر میں جمع کیا۔ میں اس پر وقار تقریب کے موقع کی مناسبت سے  ایک اہم سنگ میل یعنی بلوچستان یوتھ پالیسی کا مسودہ  کو جلد از جلد مکمل کے کے صوبائی اسمبلی سے منظور کرانے کا اعادہ کرتا ہوں تا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کی آواز فیصلہ سازی کا حصہ بنے۔ یہ جامع یوتھ پالیسی فریم ورک، جو یوتھ ڈیپارٹمنٹ کی محنت اور  کاوشوں سے تیار کی گئی ہے، ہماری نوجوان آبادی کو بااختیار بنانے کے لیے ہمارے اجتماعی وژن کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ ہمارے نوجوانوں کی امنگوں، خوابوں اور اختراعی خیالات کی عکاس پالیسی ہوگی ہے، جس کا مقصد ایک ایسا نظام بنانا ہے جو ان کی صلاحیتوں کو پروان چڑھائے اور انہیں بلوچستان سمیت ملک کے خوشحال مستقبل کی طرف لے جانے کے لیے ضروری مہارتوں سے آراستہ کرے۔

 سیکریٹری برائے محکمہِ کھیل اور امورِ نوجوانان محمد إسحاق جمالی نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ، دنیا بھر کی  تاریخ میں نوجوان تبدیلی اور ترقی میں سب سے آگے رہے ہیں۔ ان کے پاس ایک غیر متزلزل عزم، تازہ نقطہ نظر، اور لامحدود توانائی ہے جو معاشروں میں انقلاب برپا کر سکتی ہے۔ آج، ہم ان کی آواز کو بڑھانے، ان کی امنگوں کا جشن منانے اور ان کے خوابوں کو پہچاننے کے لیے یہاں موجود ہیں۔ یہ نیشنل یوتھ سمٹ ہمارے عظیم ملک کے ہر کونے سے نوجوان ذہنوں کے لیے ایک پلیٹ فارم ہے کہ وہ آپس میں اتحاد، تعاون اور تبدیلی کی ایک ایسی شمع روشن کر سکیں جو ہمارے ترقی یافتہ، خوشحال پاکستان کے مستقبل کو تشکیل دے گی۔

 نیشنل یوتھ سمٹ  کے پہلے روز سابقہ ایم پی اے اور نیشنل پارٹی کی مرکزی رہنمامیڈم یاسمین لہڑی، سماجی کارکن، جہانگیر بازئی، نوجوان سماجی کارکن جیا جگی، نمرہ پرکانی و دیگر سیاسی و سماجی رہنماوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا جبکہ نوجوانوں کے لئے مختلف مہارتوں پر تربیتی ورکشاپ بھی منعقد کی گئی۔

مزید پڑھیں

Tuesday, May 2, 2023

تنخواہوں کی عدم ادائیگی کیخلاف جامعہ بلوچستان میں تدریسی عمل معطل، اساتذہ اور عملے کی ہڑتال جاری

May 02, 2023 0

 

کوئٹہ (آن لائن) جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کے زیر اہتمام گزشتہ روز اپنی ماہانہ تنخواہوں کی بروقت ادائیگی، جامعہ بلوچستان سمیت دیگر جامعات کو درپیش سخت مالی و انتظامی بحران کی مستقل حل، بلوچستان یونیورسٹیز ایکٹ 2022 کی پالیسی ساز اداروں میں اساتذہ، آفیسران، ملازمین اور طلباءوطالبات کی منتخب نمائندگی، غیر قانونی طور پر مسلط وائس چانسلر کی برطرفی ، آفیسران و ملازمین کی پروموشن، آپ گریڈیشن اور ٹائم سکیل کی فراہمی کے لئے جامعہ بلوچستان سمیت تمام سب کیمپسزز میں مکمل تالا بندی اور امتحانات و ٹرانسپورٹ بند رہی۔

اس سلسلے میں سریاب روڈ پر احتجاجی ریلی اور جامعہ بلوچستان کے مین گیٹ کے سامنے دھرنا زیرصدارت پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ دیا گیا۔ دھرنے میں سینکڑوں اساتذہ کرام اور ملازمین نے شرکت کی، دھرنے سے پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ ، شاھ علی بگٹی، فریدخان اچکزئی، ، نعمت اللہ کاکڑ، میڈم فرحانہ عمر مگسی، محبوب شاہ، حافظ عبدالقیوم اور سید شاہ بابر نے خطاب کیا۔مقررین نے کہاکہ ستم ظریفی کی بات ہےکہ ماہ مقدس میں بھی بنیادی حق تنخواہ کے لئے احتجاج پر مجبور تھے اور عید الفطر بھی احتجاج کے دوران گذر گیا اور اب عید کے بعد بھی احتجاج جاری ہے لیکن جامعہ کے اساتذہ اور ملازمین کو اب تک انکی بنیادی حق تنخواہ سے محروم رکھا گیا ہیں۔

 انہوں نےکہا کہ طویل جدوجہد کے بعد صوبائی فنانس کمیشن کے منعقدہ اجلاس زیرصدارت صوبائی وزیر خزانہ اینجئنر زمرک اچکزئی نے جامعہ بلوچستان کے لئے 38 کروڑ روپے دینے کی منظوری دی لیکن صوبائی سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کی جامعہ و تعلیم دشمن روئیےکی وجہ سے ابھی تک منظور شدہ فنڈز جاری نہیں کئے بلکہ فیصلے کے برعکس جامعہ بلوچستان کی خودمختاری کے خلاف ایک غیر قانونی سرکلر جاری کیا گیا جسکو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جا سکتا،مقررین نے کہاکہ جب تک بلوچستان کی جامعات اور ریسرچ سینٹرز کو درپیش مالی بحران کا مستقل حل نہیں نکالا جاتا جامعہ بلوچستان و دیگر جامعات اور ریسرچ سینٹرز کو تنخواہوں اور پنشنز کی ادائیگی میں مشکلات میں کمی نہیں آئیگی۔ 

انہوں نے کہا کہ جامعہ بلوچستان اور ریسرچ سینٹرز کی مالی بحران کا واحد حل یہی ہے کہ صوبائی حکومت فوری طور پر جامعہ بلوچستان کےلئے 2 ارب اور مرکزی حکومت 3 ارب روپے کا بیل آوٹ پیکیج فراہم کریں اور آنے والے سالانہ بجٹ میں صوبائی حکومت 10 ارب روپے گرانٹس ان ایڈز اور مرکزی حکومت 500 ارب روپے ملک بھر کی جامعات کے لئے مختص کریں، جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اعلان کیا کہ بروز بدھ بھی جامعہ بلوچستان کو درپیش مالی بحران،خصوصا وائس چانسلر کی برطرفی و دیگر مسائل کے حل کےلئے جامعہ بلوچستان اور سب کیمپسزز میں مکمل تالا بندی اور امتحانات و ٹرانسپورٹ بند رہےگا اور احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔

مزید پڑھیں

Thursday, April 27, 2023

عمرے کی ادائیگی کے دوران سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو والے عبدالقادر مری کی کہانی

April 27, 2023 0

 

’میں ایک چرواہا ہوں۔ زندگی بھر مزدوری کرتا رہا ہوں۔ میں نے کبھی بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ مجھے اتنی شہرت ملے گی۔‘ یہ کہنا ہے عبدالقادر مری کا جن کی حال ہی میں عمرے کی ادائیگی کے دوران ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔

 قرون اولیٰ کے مسلمانوں سے مشابہت رکھنے والے مخصوص حلیے، ایک ہاتھ میں چھڑی اور دوسرے میں تسبیح لیے عبدالقادر کی جس ویڈیو نے انھیں گوشہ گمنامی سے نکال کر لوگوں کی توجہ کا مرکز بنایا وہ مدینہ میں مسجد نبوی میں بنائی گئی تھی۔ فون پر بی بی سی بات کرتے ہوئے 82 سالہ بزرگ کا کہنا تھا کہ ’اگر مجھے شہرت ملی ہے تو اس میں میرا کوئی کمال نہیں ہے بلکہ یہ سب کچھ اللہ کے کرم اور ان کے پیغمبر کے روزے پر حاضری کے باعث ممکن ہوا۔‘


ان کی عمرے کی خواہش تو پوری ہوئی لیکن اب عبد القادر کہتے ہیں کہ ان کی دوسری بڑی خواہش حج کا فریضہ ادا کرنے کی ہے۔ لیکن عمرے کی ادائیگی کے سلسلے میں سعودی عرب پہنچنے کے لیے بھی انھیں کئی جتن کرنا پڑے۔


عبدالقادر مری کا تعلق بلوچستان کے مری قبیلے سے ہے۔ ان کے پانچ بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ بلوچستان کے ضلع کوہلو میں پیدا ہونے والے عبد القادر نے خشک سالی اور غربت سے مجبور ہو کر سنہ 2000 کے بعد نقل مکانی کی۔ کراچی میں مقیم ان کے نواسے سیف علی نے بتایا کہ کوہلو سے اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ عبدالقادر مری سندھ کے شہر نواب شاہ چلے گئے جہاں چند سال کھیتوں میں کام کرنے کے بعد حیدرآباد کے قریب جامشورو منتقل ہو گئے۔ چار پانچ سال تک انھوں نے جامشورو میں مزدوری کی تاہم ان کے مطابق ’گزارا نہیں ہو رہا تھا‘ تو انھوں نے کراچی سے متصل بلوچستان کے ضلع حب کا رخ کیا اور وہاں ساکران کے علاقے میں گوٹھ حاجی رحیم مری میں سکونت اختیار کر لی۔


انھوں نے بتایا کہ وہ ویزا لگنے کے باجود کورونا کی وبا کی وجہ سے عمرے کے لیے نہیں جا سکے۔ ’کورونا کے باعث میں تمام تر تیاریوں کے باوجود سعودی عرب نہیں جاسکا لیکن اللہ تعالیٰ سے اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے دعا کا سلسلہ ترک نہیں کیا جن کی وجہ سے اس سال میری خواہش پوری ہو گئی۔‘ انھوں نے بتایا کہ عمرے کے لیے انھیں اپنی 10-15 بکریوں کو بھی فروخت کرنا پڑا۔ سیف علی نے بتایا کہ ڈیڑھ سال قبل ان کے ایک بیٹے کو بھی سعودی عرب میں محنت مزدوری کے لیے جانے کا موقع ملا۔ عبدالقادر کے بقول کچھ پیسے ان کے بیٹے نے بھی بھجوائے۔


مشہور ہونے والی ویڈیو میں کیا ہے؟ 

اس ویڈیو میں سفید پگڑی پہنے عبدالقادر مری کے سر پر سفید چادر ہے، ایک ہاتھ میں تسبیح اور دوسرے میں چھڑی تھامے ننگے پاؤں وہ باربار پیچھے بھی مڑ کے دیکھتے رہتے ہیں۔ ویڈیو بنانے والے نے اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا تو اسے بہت زیادہ پزیرائی ملی اور بعض صارفین نے ان کے حلیے کو پیغمبر اسلام کے ساتھیوں کے حلیے سے مشابہہ قرار دیا۔

عبدالقادر مری نے کہا کہ ان کے پاس کوئی فن اور ہنر نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے جو شہرت ملی ہے اس میں میرا کوئی کمال نہیں بلکہ یہ سب کچھ اللہ کے گھر اور اس کے پیغمبر کے روضے پر حاضری کے طفیل ہی ممکن ہوا ہے۔‘ سیف علی نے بتایا کہ تاحال سعودی حکومت کی ’کسی شخصیت نے ہم سے اس سلسلے میں براہ راست رابطہ نہیں کیا تاہم وہاں ہمارے قبیلے سے تعلق رکھنے والے بعض افراد نے بتایا ہے کہ سعودی عرب کے بعض لوگوں نے ان سے رابطہ کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ وہ انھیں حج کرائیں گے۔‘ عبدالقادر مری کہتے ہیں کہ ان کی دعا ہے کہ زندگی کی خاتمے سے پہلے حج کی خواہش بھی پوری ہو جائے۔


یہ اسٹوری بی بی سی اردو پر شائع ہوئی یہاں ان کے شکریہ کے ساتھ قارین کے لئے شائع کی گئی۔ 

مزید پڑھیں

Tuesday, April 25, 2023

بلوچستان، امید کی دیوی ( پرنسز آف ہوپ) خطرے میں۔

April 25, 2023 0

خلیل رونجھو

 ہنگول نیشنل پارک کی ایک پہچان ’پرنسس آف ہوپ‘ (امید کی شہزادی ) نامی ایک چٹان ہے۔ یہ دور سے دیکھنے میں ایک دراز قامت خاتون کا مجسمہ معلوم ہوتی ہے جو دور افق میں کچھ تلاش کر رہی ہے۔ 

معروف ہالی ووڈ اداکارہ انجلینا جولی سنہ 2004 میں اقوام متحدہ کے ایک خیر سگالی مشن پر پاکستان آئیں تو یہ چٹان ان کی توجہ کا مرکز بنی اور انھوں نے ہی اسے ’پرنسس آف ہوپ‘ یا امید کی شہزادی کا نام دیا۔ 

اس کے بارے میں یہی کہا جاتا ہے کہ یہ انسان کی تخلیق نہیں بلکہ سمندری ہواؤں اور کٹاؤ کے باعث تخلیق ہوئی ہے بلوچستان میں حالات کی بہتری کے بعد اس روٹ پر سیاحت کو کافی فروغ ملا ہے۔ ویک اینڈ پر بہت ساری ٹوورسٹ کمپنیاں اور دیگر افراد ہنگول نیشل پارک میں واقع سمندر، دریا، صحرا، ھنگلاج ماتا کے تاریخی مندر کے ساتھ امید کی اس دیوی کا بھی وزٹ کرتے ہیں لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ یہ سیاح پرنس آف ہوپ کے اوپر تک چلے جاتے ہیں جس سے یہ خطرات جنم لے رہے ہیں کہ مٹی کا یہ مجسمہ ھمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا۔

 موجودہ حکومت، بلوچستان میں سیاحت کے فروغ کے لئے جہا‌ں کچھ اقدامات کررہی ہے وہی پر اس دیوی کو محفوظ رکھنے کے لیے بھی مناسب اقدامات کرے، وہاں پر روڈ سائیڈ پر تصویر کشی کے لیے خوبصورت پوائنٹ بنا کر سیاحوں کو اوپر جانے سے روکا جائے ۔

مزید پڑھیں

Sunday, April 23, 2023

کوئٹہ: گھروں پر مفت کتابیں پہنچانے والا ریڈرز کلب

April 23, 2023 0

 کوئٹہ میں بلوچستان یونیورسٹی کے آٹھ سے 10 طلبہ کا ایک گروپ اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے شہر میں مفت کتابیں پہنچاتا ہے۔ 


ان نوجوانوں نے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر ’سریاب ریڈرز کلب‘ کے نام سے پیجز بنا رکھے ہیں، جہاں تقریباً 600 کتابوں کی تصاویر مختصر تعارف کے ساتھ پوسٹ ہیں۔ کتاب بین ان ٹائٹلز میں سے کسی کو پسند کرنے کے بعد وہ کتاب پہنچانے کا پتہ فراہم کرتے ہیں۔ سریاب ریڈرز کلب کے رضاکار انیس الرحمن نے بتایا کہ وہ اور ان کے دوست ماہانہ 400 سے زیادہ کتابیں خود اپنے پیسوں سے پہنچاتے ہیں۔

 ’سب سے پہلے ہمارے پاس جو کتابیں دستیاب ہوتی ہیں انہیں ہم فیس بک اور واٹس ایپ گروپس میں پوسٹ کرتے ہیں، پھر جو بھی کتاب بین پہلے رابطہ کرتا ہے ہم ان سے پتہ لے لیتے ہیں۔‘ انہوں نے کہا: ’ڈیلیوری کا پتہ گھر، دکان یا پھر کوئی ہوٹل وغیرہ ہوتا ہے جہاں ہمارے رضاکار کتاب موٹر سائیکل یا سائیکل کے ذریعے پہنچاتے ہیں، پھر ایک مہینے کے اندر کتاب واپس لے کر دوبارہ اس کی پوسٹ سوشل میڈیا پر لگا دیتے ہیں۔‘

 انیس نے مزید بتایا کہ ’ہم اس مد میں کسی قسم کے چارجز نہیں لیتے اور پیٹرول وغیرہ کا خرچہ اپنی جیب سے دیتے ہیں تاکہ کتاب تک رسائی زیادہ سے زیادہ آسان ہو اور زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفید ہو سکیں۔‘ سریاب ریڈر زون کے پاس اس وقت تقریباً 600 کتابوں میں سے 400 سے زائد تقسیم ہوئی ہیں۔ یہ کتابیں بھی زیادہ تر ان طالب علموں نے اپنی  ذاتی لائبریریوں سے وقف کی ہے۔

انیس کہتے ہیں: ’ہمارے پاس اس وقت 400 کے آس پاس ایسے کتاب بین ہیں جو تقریباً ہر مہینے نئی کتاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ’اچھی بات یہ ہے کہ اب آہستہ آہستہ ہمیں لوگ اپنی کتابیں عطیہ بھی کر رہے ہیں۔‘ اس کام کی شروعات کے حوالے سے انیس بتاتے ہیں کہ 2020 میں کرونا وبا کے دوران انہوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ریڈرز کلب بنانے کا ارادہ کیا، جہاں بغیر کسی معاوضے کے کتابیں پڑھی جا سکیں۔

’حال ہی میں خاران میں خاران ریڈرز کلب کے نام سے یہ منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ انیس کی خواہش ہے کہ مستقبل میں وہ بلوچستان کے ہر ضلعے میں ریڈرز کلب شروع کریں تاکہ علم کی یہ روشنی بلوچستان کے ہر گھر تک پہنچ سکے۔


(یہ اسٹوری انڈپینڈنٹ اردو پر شائع ہوئی، یہاں ان کے شکریہ کے ساتھ دوبارہ شیئر کی جا رہی ہے۔ )


مزید پڑھیں

Thursday, April 20, 2023

ایسے میں ہم عید کیسے منائیں جب میرا لخت جگر لاپتہ ہے۔ بلوچستان سے ایک اور گمشدگی

April 20, 2023 0

 


(یہ رپورٹ بی بی سی اردو، اور محمد کاظم کے شکریہ کے ساتھ یہاں شائع کی جا رہی ہے)

’میرے بیٹے نے راستے میں مجھے بتایا کہ اُس نے روزہ رکھا ہوا ہے، اُس لیے اس کی افطاری کا اچھا سا بندوبست کیا جائے۔ بیٹے کی خواہش پر ہم نے اپنی استطاعت کے مطابق اچھے پکوان تو تیار کروائے لیکن وہ انھیں کھانے کے لیے کبھی گھر نہیں پہنچ سکا۔‘

یہ کہنا ہے بلوچستان کے ضلع قلات سے تعلق رکھنے والے محمد اسحاق لاشاری کا جن کے بیٹے فیاض لاشاری کو مبینہ طور پر لاپتہ کیا گیا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے محمد اسحاق اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکے اور گلوگیر آواز میں بتایا کہ امتحان دینے کے بعد اُن کا بیٹا اسلام آباد سے عید منانے کے لیے گھر آ رہا تھا۔ ’ایسے میں ہم عید کیسے منائیں جب میرا لخت جگر لاپتہ ہے۔ اور یہ بھی علم نہیں کہ وہ کہاں ہے اور کس حال میں ہے؟‘


فیاض لاشاری کون ہیں؟
فیاض لاشاری کا تعلق بلوچستان کے ضلع قلات سے ہے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم قلات سے حاصل کی اور اس کے بعد یونیورسٹی آف بلوچستان سے فزیوتھراپی کی ڈگری لی۔ وہ اس وقت اسلام آباد میں ہیلتھ سروسز اکیڈمی سے پبلک ہیلتھ سروسز میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔ 
ان کے والد کے مطابق سات بھائیوں میں ان کا نمبر چھٹا ہے۔ ان کے والد نے بتایا کہ فیاض شادی شدہ ہیں اور ان کی شادی تقریباً ایک سال قبل ہوئی تھی۔

فیاض لاشاری کے والد محمد اسحاق خود بھی پولیس کے ریٹائرڈ ملازم ہیں اور انھیں ریٹائرمنٹ کے وقت جو پیسے ملے وہ انھوں نے فیاض اور دوسرے بچوں کی تعلیم پر خرچ کر دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاحال فیاض ملازمت نہیں کر رہے ہیں اور اسلام آباد میں ان کی تعلیم کے اخراجات بھی وہ ہی برداشت کرتے ہیں۔


محمد اسحاق کے مطابق اسلام آباد میں موجود اپنے بیٹے کے ساتھ جب ان کا آخری رابطہ ہوا تو انھوں نے بتایا کہ 14 اپریل کو ان کے دوسرے سمسٹر کا آخری پرچہ ہے جسے دینے کے بعد وہ کوئتہ کے لیے روانہ ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ 15 اپریل کو علی الصبح کرائے کی کار میں دو ساتھیوں کے ساتھ صبح ساڑھے پانچ بجے کے قریب کوئٹہ کے لیے اسلام آباد سے روانہ ہوئے۔ ’ان کے ساتھ سفر کرنے والوں میں ان کے کلاس فیلو محمد فراز کے علاوہ ڈاکٹر نبی داد بگٹی اور گاڑی کے ڈرائیور شامل تھے۔‘ 

محمد اسحاق نے بتایا کہ فیاض لاشاری کے ساتھ سفر کرنے والوں نے بتایا کہ جب اُن کی گاڑی شام کو ساڑھے چار سے پانچ بجے کے درمیان ضلع پشین کے علاقے زیارت کراس پر پہنچی تو تین گاڑیاں تیزی کے ساتھ آ کر ان کی گاڑی کے سامنے رُکیں۔ ’ان گاڑیوں میں سے تقریباً 15 افراد اترے جن میں سے بعض مسلح تھے۔ اور ان میں سے چند افراد وردی میں ملبوس تھے اور بعض سادہ کپڑوں میں۔‘ محمد اسحاق نے دعویٰ کیا کہ ’نامعلوم افراد نے گاڑی کے قریب آ کر سب سے شناختی کارڈ طلب کیے اور شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد انھوں نے کار ڈرائیور اور سرفراز احمد کو چھوڑ دیا جبکہ میرے بیٹے فیاض اور ڈاکٹر نبی داد بگٹی کار سے اتار کر اپنی گاڑیوں میں نامعلوم مقام پر لے گئے۔ 

محمد اسحاق کا کہنا ہے کہ 16 اپریل کو نبی داد بگٹی کو کوئٹہ کے علاقے بروری روڈ پر صبح چھ بجے چھوڑ دیا گیا لیکن ان کا بیٹا تاحال لاپتہ ہے۔ محمد اسحاق کے مطابق انھوں نے متعلقہ تھانے کے حکام کو ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست دی ہے۔ یاد رہے کہ زیارت کراس کا علاقہ ضلع پشین کی تحصیل کاریزات میں آتا ہے۔

 کاریزات میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس سلسلے میں ایک درخواست آئی ہے تاہم ابھی تک انھوں نے ایف آئی آر درج نہیں کی ہے کیونکہ ابھی تک اس بات کا تعین ہونا باقی ہے کہ یہ واقعہ ان کے علاقے میں پیش آیا یا کسی اور علاقے میں۔



مزید پڑھیں

Post Top Ad

Design and Developed by: Peel Technologies, Quetta

Noble Knowledge