خبرچار اردو1 -->

{ads}

ٹرینڈنگ

Post Top Ad

Tuesday, May 2, 2023

تنخواہوں کی عدم ادائیگی کیخلاف جامعہ بلوچستان میں تدریسی عمل معطل، اساتذہ اور عملے کی ہڑتال جاری

May 02, 2023 0

 

کوئٹہ (آن لائن) جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کے زیر اہتمام گزشتہ روز اپنی ماہانہ تنخواہوں کی بروقت ادائیگی، جامعہ بلوچستان سمیت دیگر جامعات کو درپیش سخت مالی و انتظامی بحران کی مستقل حل، بلوچستان یونیورسٹیز ایکٹ 2022 کی پالیسی ساز اداروں میں اساتذہ، آفیسران، ملازمین اور طلباءوطالبات کی منتخب نمائندگی، غیر قانونی طور پر مسلط وائس چانسلر کی برطرفی ، آفیسران و ملازمین کی پروموشن، آپ گریڈیشن اور ٹائم سکیل کی فراہمی کے لئے جامعہ بلوچستان سمیت تمام سب کیمپسزز میں مکمل تالا بندی اور امتحانات و ٹرانسپورٹ بند رہی۔

اس سلسلے میں سریاب روڈ پر احتجاجی ریلی اور جامعہ بلوچستان کے مین گیٹ کے سامنے دھرنا زیرصدارت پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ دیا گیا۔ دھرنے میں سینکڑوں اساتذہ کرام اور ملازمین نے شرکت کی، دھرنے سے پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ ، شاھ علی بگٹی، فریدخان اچکزئی، ، نعمت اللہ کاکڑ، میڈم فرحانہ عمر مگسی، محبوب شاہ، حافظ عبدالقیوم اور سید شاہ بابر نے خطاب کیا۔مقررین نے کہاکہ ستم ظریفی کی بات ہےکہ ماہ مقدس میں بھی بنیادی حق تنخواہ کے لئے احتجاج پر مجبور تھے اور عید الفطر بھی احتجاج کے دوران گذر گیا اور اب عید کے بعد بھی احتجاج جاری ہے لیکن جامعہ کے اساتذہ اور ملازمین کو اب تک انکی بنیادی حق تنخواہ سے محروم رکھا گیا ہیں۔

 انہوں نےکہا کہ طویل جدوجہد کے بعد صوبائی فنانس کمیشن کے منعقدہ اجلاس زیرصدارت صوبائی وزیر خزانہ اینجئنر زمرک اچکزئی نے جامعہ بلوچستان کے لئے 38 کروڑ روپے دینے کی منظوری دی لیکن صوبائی سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کی جامعہ و تعلیم دشمن روئیےکی وجہ سے ابھی تک منظور شدہ فنڈز جاری نہیں کئے بلکہ فیصلے کے برعکس جامعہ بلوچستان کی خودمختاری کے خلاف ایک غیر قانونی سرکلر جاری کیا گیا جسکو کسی صورت تسلیم نہیں کیا جا سکتا،مقررین نے کہاکہ جب تک بلوچستان کی جامعات اور ریسرچ سینٹرز کو درپیش مالی بحران کا مستقل حل نہیں نکالا جاتا جامعہ بلوچستان و دیگر جامعات اور ریسرچ سینٹرز کو تنخواہوں اور پنشنز کی ادائیگی میں مشکلات میں کمی نہیں آئیگی۔ 

انہوں نے کہا کہ جامعہ بلوچستان اور ریسرچ سینٹرز کی مالی بحران کا واحد حل یہی ہے کہ صوبائی حکومت فوری طور پر جامعہ بلوچستان کےلئے 2 ارب اور مرکزی حکومت 3 ارب روپے کا بیل آوٹ پیکیج فراہم کریں اور آنے والے سالانہ بجٹ میں صوبائی حکومت 10 ارب روپے گرانٹس ان ایڈز اور مرکزی حکومت 500 ارب روپے ملک بھر کی جامعات کے لئے مختص کریں، جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اعلان کیا کہ بروز بدھ بھی جامعہ بلوچستان کو درپیش مالی بحران،خصوصا وائس چانسلر کی برطرفی و دیگر مسائل کے حل کےلئے جامعہ بلوچستان اور سب کیمپسزز میں مکمل تالا بندی اور امتحانات و ٹرانسپورٹ بند رہےگا اور احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔

مزید پڑھیں

پاکستان کے آئندہ انتخابات میں صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے، پی پی ایف

May 02, 2023 0

 

پاکستان میں 2023 میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، لیکن سیاسی بیان بازیوں ریلیوں اور مظاہروں نے پہلے ہی میڈیا کے تحفظ اور ملک میں اظہار رائے کی آزادی پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ بدقسمتی سے، 2022-23 میں میڈیا پر حملوں کی نوعیت سے معلوم ہوتا ہے کہ صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کو سیاسی طور پر چارج شدہ ماحول میں تشدد کے حملے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پاکستان پریس فاؤنڈیشن (پی پی ایف) نے آزادی صحافت کے عالمی دن 2023 کے موقع پر جاری کردہ سالانہ رپورٹ میں سیاسی منتقلی کے دوران صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کی سفارش کی ہے۔

رپورٹ میں وفاقی حکومت کی جانب سے صحافیوں اور دیگر میڈیا پروفیشنلز کے تحفظ کے لیے فوری طور پر کمیشن بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔ صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے وفاقی تحفظ ایکٹ 2021 کا موثر نفاذ اور صوبائی سطح پر سندھ پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ دیگر میڈیا پریکٹیشنرز ایکٹ 2021 احتساب میں اضافے، میڈیا کے خلاف تشدد میں کمی اور ان جرائم کے ارد گرد استثنیٰ کے کلچر سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) میڈیا کے لئے اپنے ضابطہ اخلاق پر نظر ثانی کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ وہ صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے واضح اقدامات فراہم کرے۔ میڈیا کوریج کو محدود کرنے سے متعلق کسی بھی حصے کو قومی میڈیا کے ضابطہ اخلاق سے خارج کیا جانا چاہئیے۔ ای سی پی سیاسی جماعتوں کے لئے اپنے ضابطہ اخلاق پر بھی نظر ثانی کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ وہ میڈیا کی حفاظت کے لئے سیاسی جماعتوں کو مخصوص ذمہ داری تفویض کرے اور انہیں میڈیا کے تحفظ کے لئے اپنے منصوبے شیئر کرنے پر مجبور کرے تاکہ اکتوبر 2022 کی سیاسی ریلی میں ہونے والے صدف نعیم کی موت جیسے واقعات کو روکا جاسکے۔ 

رپورٹ میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن میڈیا کی حفاظت کے لیے سیاسی جماعتوں کو مخصوص ذمہ داری تفویض کرے اور ان سے انتخابی تقریبات کے دوران میڈیا کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات کو یقینی بنائے۔ مواد کے ریگولیٹر، پیمرا کو سنسرشپ کی حوصلہ افزائی نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگانے کا کام کرنا چاہیے۔ صوبائی اور عام انتخابات کے دوران تمام پیشرفتوں کی کوریج کی اجازت بغیر کسی خوف کے انتقامی کارروائیوں یا اہم مسائل یا واقعات کی نشریات کو روکنے کےلئے حکم امتناع دی جانی چاہیے۔ 

ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم انتخابی چکروں کے دوران معلومات کے بوجھ کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اگرچہ درست اور تصدیق شدہ کوریج کو یقینی بنانا میڈیا کی ذمہ داری ہے ، لیکن ان پلیٹ فارمز کے ریگولیشن کو بڑھانے یا انٹرنیٹ تک رسائی کو معطل کرنے کے لئے کوئی بھی اقدام ، جیسا کہ پہلے مشاہدہ کیا گیا ہے ، ناقابل قبول ہے۔ ان جمہوریت میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر آزادانہ اظہار ضروری ہے۔ 

صحافیوں یا ذرائع ابلاغ کے افراد کے خلاف مقدمات کا اندراج اور مجرمانہ کارروائی شروع کرنے سے ڈرانے دھمکانے کے ذریعے سیلف سنسرشپ کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ صحافیوں کو قانونی انتقامی کاروائیوں، طویل مقدمات یا گرفتاریوں کے خوف کے بغیر کام کرنے کی اجازت ہونی چاہیے ۔ میڈیا تنظیموں کو صحافیوں کو حفاظتی تربیت اور سازوسامان بھی فراہم کرنا چاہئے۔ عملے کی جسمانی اور ذہنی تندرستی کو مدنظر رکھا جانا چاہئے اور عملی تربیت، تنخواہوں کی بروقت ادائیگی ، اور صحافیوں کےلئے حفاظتی خطرات کا مسلسل جائزہ لے کر ان کی حفاظت کی جانی چاہیے۔

صرف صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے تحفظ سے ہی عوام کو درست اور غیر جانبدارانہ معلومات مل سکتی ہیں اور جمہوری عمل آزادانہ اور منصفانہ طور پر چلایا جا سکتا ہے۔


مزید پڑھیں

’چیٹ بوٹس جلد ہی ہم سے زیادہ ذہین ہوں گے:‘ مصنوعی ذہانت کے ’گاڈ فادر‘ گوگل سے مستعفی

May 02, 2023 0

 


مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی (اے آئی) کے ’گاڈ فادر‘ سمجھے جانے والے ماہر نے اس کے بڑھتے خطرات کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے اپنی ملازمت چھوڑ دی ہے۔ 75 سالہ ماہر ٹیکنالوجی جیفری ہنٹن نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ وہ گوگل سے مستعفی ہو گئے ہیں اور انھیں مصنوعی ذہانت کے میدان میں کیے گئے اپنے کام پر پچھتاوا ہے۔

 انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اے آئی چیٹ بوٹس کے کچھ خطرات ’کافی خوفناک‘ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’جتنا میں سمجھتا ہوں، اس کے مطابق یہ کہہ سکتا ہوں کہ فی الحال، وہ ہم سے زیادہ ذہین نہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ وہ جلد ہی (ہم سے زیادہ ذہین) ہو سکتے ہیں۔‘

ڈیپ لرننگ اور اعصابی نیٹ ورکس پر ڈاکٹر ہنٹن کی ابتدائی تحقیق نے چیٹ جی پی ٹی جیسے جدید مصنوعی ذہانت والے نظام کے قیام کے لیے راہ ہموار کی۔ ماہر نفسیات اور کمپیوٹر سائنسدان ہنٹن نے بی بی سی کو بتایا کہ چیٹ بوٹ جلد ہی انسانی دماغ کی معلومات کی سطح کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ابھی ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ جی پی ٹی-4 کسی ایک شخص کے پاس موجود علم پر سبقت حاصل کرتا ہے۔ وضاحت دینے کے معاملے میں یہ (ٹیکنالوجی) اتنے آگے نہیں مگر یہ کچھ حد تک ایسا کر سکتی ہے۔‘ ’اور اس کی ترقی کی شرح کو دیکھتے ہوئے ہم توقع کرتے ہیں کہ چیزیں بہت تیزی سے بہتر ہوں گی۔ لہذا ہمیں اس کے بارے میں فکر مند ہونے کی ضرورت ہے۔‘

نیویارک ٹائمز کے مضمون میں ڈاکٹر ہنٹن نے ’برے عوامل‘ کا حوالہ دیا جو ’بری چیزوں‘ کے لیے اے آئی کا استعمال کرنے کی کوشش کریں گے۔ جب بی بی سی نے اس کے متعلق استفسار کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ ’یہ صرف بدترین قسم کا منظرنامہ ہے، ایک ڈراؤنے خواب جیسی صورت حال۔‘ ’مثال کے طور پر آپ تصور کر سکتے ہیں کہ (روسی صدر ولادیمیر) پوتن جیسا کوئی بُرا شخص روبوٹ کو اپنے مقاصد طے کرنے کے لیے استعمال کرے۔‘ سائنسدان نے متنبہ کیا کہ ہو سکتا ہے کہ اس سے ایسے ذیلی مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں کہ جیسے ’مجھے مزید طاقت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔‘


بشکریہ: بی بی سی اردو

مزید پڑھیں

Saturday, April 29, 2023

کوئٹہ آل پارٹیزکی جانب سے مردم شماری کے حوالے سے خدشات و تحفظات کا اظہار

April 29, 2023 0

  آل پارٹیز کوئٹہ کا اجلاس زیر صدارت نیشنل پارٹی  صوبائی ترجمان علی احمد لانگو نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ کویٹہ میں منعقد ہوا۔اجلاس میں نیشنل پارٹی کے صوبائی سوشل میڈیا سیکرٹری سعد بلوچ یوتھ سیکرٹری نعیم بنگلزئی ضلعی جنرل سیکرٹری ریاض زہری بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے ممبر و ضلعی صدر غلام نبی مری نسیم جاوید ہزارہ ناصر بادینی جمعیت علما اسلام کے مولوی خورشید احمد محمد عارف شمشیر مولوی محمد ایوب عوامی نیشنل پارٹی کے نذر علی پیرعلیزئی پاکستان مسلم لیگ ن کے نثار احمد اچکزئی طارق گیل پشتون خواہ میپ کے رحمت اللہ صابر عبدالرزاق بڑیچ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے یونس حیدری ماسٹر محمد علی پیپلز پارٹی کے سید محراب آغا نے شرکت کی۔

اجلاس میں کوئٹہ میں مردم شماری کے حوالے سے خدشات و تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ کوئٹہ کی ابادی کو دانستہ کم کرکے عوام کے حقوق پر قدغن لگایا گیا جس کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے۔اجلاس میں تمام پارٹی کی ضلعی تنظیموں کارکنوں کو تاکید کی گئی کہ وہ آل پارٹیز کی صورت میں مردم شماری کے عمل کی نگرانی کریں اور جہاں بھی کوتاہی و کمی نظر آئیں اس کی نشاندھی پارٹیوں کے ضلعی رہنماں کو کریں تاکہ بروقت کوتائی کو دور کیا جائے رہنماں نے کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ مردم شماری عملہ کو ٹیبلٹس کی فراہمی کو یقینی بنائے اور عملہ کو متعلقہ بلاک میں موجود رہنے اور کام کرنے کا پابند بنائے۔تاکہ جن بلاکس میں مردم شماری نہیں ہوئی ان کو شمار کیا جائے۔رہنماوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کو مردم شماری کے حوالے سے ہر علاقہ کا دور کرنا چائیے اور عملہ کے کام معائنہ و نگرانی کریں تاکہ مزید کوتاہی نہ ہو۔

اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ آئندہ اجلاس 6 مء کو 3 بجے بلوچستان نیشنل پارٹی کے آفس میں منعقد ہوگا۔ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ ضلعی انتظامیہ سے میٹنگ کرکے اجلاس کے تجاویز فراہم کیا جائے گا۔


مزید پڑھیں

Thursday, April 27, 2023

عمرے کی ادائیگی کے دوران سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو والے عبدالقادر مری کی کہانی

April 27, 2023 0

 

’میں ایک چرواہا ہوں۔ زندگی بھر مزدوری کرتا رہا ہوں۔ میں نے کبھی بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ مجھے اتنی شہرت ملے گی۔‘ یہ کہنا ہے عبدالقادر مری کا جن کی حال ہی میں عمرے کی ادائیگی کے دوران ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔

 قرون اولیٰ کے مسلمانوں سے مشابہت رکھنے والے مخصوص حلیے، ایک ہاتھ میں چھڑی اور دوسرے میں تسبیح لیے عبدالقادر کی جس ویڈیو نے انھیں گوشہ گمنامی سے نکال کر لوگوں کی توجہ کا مرکز بنایا وہ مدینہ میں مسجد نبوی میں بنائی گئی تھی۔ فون پر بی بی سی بات کرتے ہوئے 82 سالہ بزرگ کا کہنا تھا کہ ’اگر مجھے شہرت ملی ہے تو اس میں میرا کوئی کمال نہیں ہے بلکہ یہ سب کچھ اللہ کے کرم اور ان کے پیغمبر کے روزے پر حاضری کے باعث ممکن ہوا۔‘


ان کی عمرے کی خواہش تو پوری ہوئی لیکن اب عبد القادر کہتے ہیں کہ ان کی دوسری بڑی خواہش حج کا فریضہ ادا کرنے کی ہے۔ لیکن عمرے کی ادائیگی کے سلسلے میں سعودی عرب پہنچنے کے لیے بھی انھیں کئی جتن کرنا پڑے۔


عبدالقادر مری کا تعلق بلوچستان کے مری قبیلے سے ہے۔ ان کے پانچ بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ بلوچستان کے ضلع کوہلو میں پیدا ہونے والے عبد القادر نے خشک سالی اور غربت سے مجبور ہو کر سنہ 2000 کے بعد نقل مکانی کی۔ کراچی میں مقیم ان کے نواسے سیف علی نے بتایا کہ کوہلو سے اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ عبدالقادر مری سندھ کے شہر نواب شاہ چلے گئے جہاں چند سال کھیتوں میں کام کرنے کے بعد حیدرآباد کے قریب جامشورو منتقل ہو گئے۔ چار پانچ سال تک انھوں نے جامشورو میں مزدوری کی تاہم ان کے مطابق ’گزارا نہیں ہو رہا تھا‘ تو انھوں نے کراچی سے متصل بلوچستان کے ضلع حب کا رخ کیا اور وہاں ساکران کے علاقے میں گوٹھ حاجی رحیم مری میں سکونت اختیار کر لی۔


انھوں نے بتایا کہ وہ ویزا لگنے کے باجود کورونا کی وبا کی وجہ سے عمرے کے لیے نہیں جا سکے۔ ’کورونا کے باعث میں تمام تر تیاریوں کے باوجود سعودی عرب نہیں جاسکا لیکن اللہ تعالیٰ سے اپنی خواہش کی تکمیل کے لیے دعا کا سلسلہ ترک نہیں کیا جن کی وجہ سے اس سال میری خواہش پوری ہو گئی۔‘ انھوں نے بتایا کہ عمرے کے لیے انھیں اپنی 10-15 بکریوں کو بھی فروخت کرنا پڑا۔ سیف علی نے بتایا کہ ڈیڑھ سال قبل ان کے ایک بیٹے کو بھی سعودی عرب میں محنت مزدوری کے لیے جانے کا موقع ملا۔ عبدالقادر کے بقول کچھ پیسے ان کے بیٹے نے بھی بھجوائے۔


مشہور ہونے والی ویڈیو میں کیا ہے؟ 

اس ویڈیو میں سفید پگڑی پہنے عبدالقادر مری کے سر پر سفید چادر ہے، ایک ہاتھ میں تسبیح اور دوسرے میں چھڑی تھامے ننگے پاؤں وہ باربار پیچھے بھی مڑ کے دیکھتے رہتے ہیں۔ ویڈیو بنانے والے نے اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا تو اسے بہت زیادہ پزیرائی ملی اور بعض صارفین نے ان کے حلیے کو پیغمبر اسلام کے ساتھیوں کے حلیے سے مشابہہ قرار دیا۔

عبدالقادر مری نے کہا کہ ان کے پاس کوئی فن اور ہنر نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے جو شہرت ملی ہے اس میں میرا کوئی کمال نہیں بلکہ یہ سب کچھ اللہ کے گھر اور اس کے پیغمبر کے روضے پر حاضری کے طفیل ہی ممکن ہوا ہے۔‘ سیف علی نے بتایا کہ تاحال سعودی حکومت کی ’کسی شخصیت نے ہم سے اس سلسلے میں براہ راست رابطہ نہیں کیا تاہم وہاں ہمارے قبیلے سے تعلق رکھنے والے بعض افراد نے بتایا ہے کہ سعودی عرب کے بعض لوگوں نے ان سے رابطہ کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ وہ انھیں حج کرائیں گے۔‘ عبدالقادر مری کہتے ہیں کہ ان کی دعا ہے کہ زندگی کی خاتمے سے پہلے حج کی خواہش بھی پوری ہو جائے۔


یہ اسٹوری بی بی سی اردو پر شائع ہوئی یہاں ان کے شکریہ کے ساتھ قارین کے لئے شائع کی گئی۔ 

مزید پڑھیں

Tuesday, April 25, 2023

بلوچستان، امید کی دیوی ( پرنسز آف ہوپ) خطرے میں۔

April 25, 2023 0

خلیل رونجھو

 ہنگول نیشنل پارک کی ایک پہچان ’پرنسس آف ہوپ‘ (امید کی شہزادی ) نامی ایک چٹان ہے۔ یہ دور سے دیکھنے میں ایک دراز قامت خاتون کا مجسمہ معلوم ہوتی ہے جو دور افق میں کچھ تلاش کر رہی ہے۔ 

معروف ہالی ووڈ اداکارہ انجلینا جولی سنہ 2004 میں اقوام متحدہ کے ایک خیر سگالی مشن پر پاکستان آئیں تو یہ چٹان ان کی توجہ کا مرکز بنی اور انھوں نے ہی اسے ’پرنسس آف ہوپ‘ یا امید کی شہزادی کا نام دیا۔ 

اس کے بارے میں یہی کہا جاتا ہے کہ یہ انسان کی تخلیق نہیں بلکہ سمندری ہواؤں اور کٹاؤ کے باعث تخلیق ہوئی ہے بلوچستان میں حالات کی بہتری کے بعد اس روٹ پر سیاحت کو کافی فروغ ملا ہے۔ ویک اینڈ پر بہت ساری ٹوورسٹ کمپنیاں اور دیگر افراد ہنگول نیشل پارک میں واقع سمندر، دریا، صحرا، ھنگلاج ماتا کے تاریخی مندر کے ساتھ امید کی اس دیوی کا بھی وزٹ کرتے ہیں لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ یہ سیاح پرنس آف ہوپ کے اوپر تک چلے جاتے ہیں جس سے یہ خطرات جنم لے رہے ہیں کہ مٹی کا یہ مجسمہ ھمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا۔

 موجودہ حکومت، بلوچستان میں سیاحت کے فروغ کے لئے جہا‌ں کچھ اقدامات کررہی ہے وہی پر اس دیوی کو محفوظ رکھنے کے لیے بھی مناسب اقدامات کرے، وہاں پر روڈ سائیڈ پر تصویر کشی کے لیے خوبصورت پوائنٹ بنا کر سیاحوں کو اوپر جانے سے روکا جائے ۔

مزید پڑھیں

Sunday, April 23, 2023

کوئٹہ: گھروں پر مفت کتابیں پہنچانے والا ریڈرز کلب

April 23, 2023 0

 کوئٹہ میں بلوچستان یونیورسٹی کے آٹھ سے 10 طلبہ کا ایک گروپ اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے شہر میں مفت کتابیں پہنچاتا ہے۔ 


ان نوجوانوں نے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر ’سریاب ریڈرز کلب‘ کے نام سے پیجز بنا رکھے ہیں، جہاں تقریباً 600 کتابوں کی تصاویر مختصر تعارف کے ساتھ پوسٹ ہیں۔ کتاب بین ان ٹائٹلز میں سے کسی کو پسند کرنے کے بعد وہ کتاب پہنچانے کا پتہ فراہم کرتے ہیں۔ سریاب ریڈرز کلب کے رضاکار انیس الرحمن نے بتایا کہ وہ اور ان کے دوست ماہانہ 400 سے زیادہ کتابیں خود اپنے پیسوں سے پہنچاتے ہیں۔

 ’سب سے پہلے ہمارے پاس جو کتابیں دستیاب ہوتی ہیں انہیں ہم فیس بک اور واٹس ایپ گروپس میں پوسٹ کرتے ہیں، پھر جو بھی کتاب بین پہلے رابطہ کرتا ہے ہم ان سے پتہ لے لیتے ہیں۔‘ انہوں نے کہا: ’ڈیلیوری کا پتہ گھر، دکان یا پھر کوئی ہوٹل وغیرہ ہوتا ہے جہاں ہمارے رضاکار کتاب موٹر سائیکل یا سائیکل کے ذریعے پہنچاتے ہیں، پھر ایک مہینے کے اندر کتاب واپس لے کر دوبارہ اس کی پوسٹ سوشل میڈیا پر لگا دیتے ہیں۔‘

 انیس نے مزید بتایا کہ ’ہم اس مد میں کسی قسم کے چارجز نہیں لیتے اور پیٹرول وغیرہ کا خرچہ اپنی جیب سے دیتے ہیں تاکہ کتاب تک رسائی زیادہ سے زیادہ آسان ہو اور زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے مستفید ہو سکیں۔‘ سریاب ریڈر زون کے پاس اس وقت تقریباً 600 کتابوں میں سے 400 سے زائد تقسیم ہوئی ہیں۔ یہ کتابیں بھی زیادہ تر ان طالب علموں نے اپنی  ذاتی لائبریریوں سے وقف کی ہے۔

انیس کہتے ہیں: ’ہمارے پاس اس وقت 400 کے آس پاس ایسے کتاب بین ہیں جو تقریباً ہر مہینے نئی کتاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ’اچھی بات یہ ہے کہ اب آہستہ آہستہ ہمیں لوگ اپنی کتابیں عطیہ بھی کر رہے ہیں۔‘ اس کام کی شروعات کے حوالے سے انیس بتاتے ہیں کہ 2020 میں کرونا وبا کے دوران انہوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ریڈرز کلب بنانے کا ارادہ کیا، جہاں بغیر کسی معاوضے کے کتابیں پڑھی جا سکیں۔

’حال ہی میں خاران میں خاران ریڈرز کلب کے نام سے یہ منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ انیس کی خواہش ہے کہ مستقبل میں وہ بلوچستان کے ہر ضلعے میں ریڈرز کلب شروع کریں تاکہ علم کی یہ روشنی بلوچستان کے ہر گھر تک پہنچ سکے۔


(یہ اسٹوری انڈپینڈنٹ اردو پر شائع ہوئی، یہاں ان کے شکریہ کے ساتھ دوبارہ شیئر کی جا رہی ہے۔ )


مزید پڑھیں

Post Top Ad

Design and Developed by: Peel Technologies, Quetta

Noble Knowledge